چین یوکرین جنگ میں روس کی کیسے مدد کر رہا ہے؟

یوکرین پر حملے کے بعد سے چین تیزی سے روس کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار بن رہا ہے۔

درحقیقت چین کے ساتھ تجارت بڑھا کر روس اس پر عائد پابندیوں کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اب امریکہ نے کہا ہے کہ چین روس کو اسلحہ اور گولہ بارود دینے پر غور کر رہا ہے۔

تاہم چین نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔

کیا چین روس کو اسلحہ دے رہا ہے؟

چین ہتھیاروں اور گولہ بارود کی تیاری کے لیے اپنی صلاحیت کو بڑھا رہا ہے۔ اور اب یہ دنیا میں اسلحہ برآمد کرنے والا چوتھا بڑا ملک بن گیا ہے۔

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائمن ویزمین کا کہنا ہے کہ ‘چین کے ہتھیار اب تیزی سے ترقی یافتہ ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، روس چینی ڈرونز کے حصول میں بہت دلچسپی لے سکتا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیاں پہلے ہی روس کو ایسی مدد دے رہی ہیں جو ‘مہلک’ نہیں ہیں۔ امریکہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسی خبریں ہیں کہ چین بہت جلد روس کو ‘مہلک مدد’ فراہم کر سکتا ہے۔

ماریہ شگینا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز میں اقتصادی پابندیوں کی ماہر ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ چین نے کھلے عام روس کو ہتھیار فراہم نہیں کیے لیکن ممکن ہے کہ وہ خفیہ طور پر روس کو ایسی جدید مصنوعات دے رہا ہو، جو فوج کے لیے استعمال ہو سکیں۔

ماریا کا کہنا ہے کہ ‘اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ چین سیمی کنڈکٹرز کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ وہ اکثر انہیں ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ شیل کمپنیوں کے ذریعے روس کو فروخت کرتا ہے۔ کچھ چینی کمپنیاں روس کو سویلین ڈرون بھی دے رہی ہیں۔ اس کے لیے وہ فوجی اور سویلین کے درمیان غلط فہمی کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔

امریکہ کے سینٹر فار ایڈوانسڈ ڈیفنس اسٹڈیز کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیاں روس کو طیارہ شکن میزائل ریڈار کے الیکٹرانک پرزے برآمد کر رہی ہیں۔

امریکہ نے ایک چینی کمپنی پر بھی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر فراہم کر کے یوکرین میں لڑنے والے روسی کرائے کے فوجیوں کی مدد کر رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.