رابندرناتھ ٹیگور: جب ہٹلر نے انڈین ’مسیحا‘ کی پینٹگز کو ’غیر اخلاقی‘ قرار دے کر عجائب گھر سے ہٹوا دیا

یہ مجموعی طور پر پانچ فن پارے تھے جن میں پرندے، انسان اور ایک سرخ لباس میں لڑکی کو دکھایا گیا تھا

اور انھیں انڈیا کے سب سے مشہور فنکار رابندرناتھ ٹیگور نے رنگی برنگی سیاہی اور گوشے سے پینٹ کیا تھا اور انھیں برلن کے ایک معروف میوزیم میں رکھا گیا تھا۔
ادب کا نوبل انعام جیتنے والے پہلے غیر یورپی رابندر ناتھ ٹیگور نے 1930 میں یہ پینٹنگز جرمنی کو تحفے میں دی تھیں مگر سات برس بعد جرمنی کی نازی حکومت نے انھیں ’نامناسب‘ قرار دیتے ہوئے عجائب سے ہٹا دیا تھا۔
نازی حکمران ہٹلر، جو خود ایک ناکام آرٹسٹ تھا، کا خیال تھا کہ ’پوسٹ امپریشنسٹ جدید آرٹ‘ (آرٹ کی وہ قسم جس میں تصاویر کو تخیلاتی رنگوں اور روشنی کے امتزاج سے پینٹ کیا جاتا ہے) ایک ’منحرف ذہن کا ثبوت‘ ہے اور اس نے وین گوہ اور مین رئے جیسے آرٹسٹ کے فن پاروں سمیت 16 ہزار ایسی پینٹنگز کو جرمنی کے عجائب گھروں سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
نازیوں نے اس طرح کے فن پاروں کو ’غیر اخلاقی‘ قرار دیا اور ان کا مذاق اڑانے کے لیے ایک نمائش بھی منعقد کی تھی۔
ہٹلر کی بدنام زمانہ مہم میں ٹیگور کی پینٹنگز کو کیسے اور کیوں نشانہ بنایا گیا اس کا بظاہر بہت کم ریکارڈ موجود ہے۔
آرٹ سے وابسطہ مؤرخین کا قیاس ہے کہ نازیوں کے لیے ٹیگور کے فن کو شیطانی قرار دینا آسان تھا کیونکہ وہ فطرت کے اعتبار سے جدید تھیں۔ ہٹلر نے ایک بار کہا تھا کہ ’جو بھی آسمان کو سبز اور کھیتوں کو نیلا دیکھتا ہے اور اسے رنگ دیتا ہے اس کا علاج کیا جانا چاہیے۔‘

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.