قطر: عالمی فٹ بال کپ،تہذیبوں کا اتحاد

فٹ بال ہمیشہ میرا شوق اور جنون رہا ہے جب تک کھیل سکے کھیلا جب کھیلنے کے قابل نہ رہے تو دیکھ دیکھ کر اپنا شوق پورا کرتا رہا ہوں ۔

کہتے ہیں کہ فٹ بال کا ہر میچ سنسنی خیز اور دلچسپ ہوتا ہے مگر کھلاڑی یا سابقہ کھلاڑی اسے کسی اور ہی انداز سے دیکھتے ہیں۔ میچ کے ایک ایک لمحے سے لطف اندواز ہونا اور ساتھ ساتھ تبصرہ کرنا اسے اور بھی دلچسپ بنا دیتا ہے ۔فٹ بال جو دنیا کا مقبول ترین کھیل شمار ہوتا ہے ۔اس کےعالمی کپ جسے “فیفا عالمی کپ “بھی کہتے ہیں شروع ہوتا ہے تو پوری دنیا کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے ۔یہ ورلڈ کپ دنیا میں کھیل کا سب سے بڑا اور دلچسپ ایونٹ اور میلہ قرار دیا جاتا ہے۔ اسے ہر چار سال بعد منعقد کیا جاتا ہے ۔ دنیا بھر کےممالک اس ولولہ انگیز میلے کے انعقاد کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں ۔ان مقابلوں میں دنیا بھر سے 32مما لک کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں اور یہ میلہ ایک ماہ تک سجا رہتا ہے اور فائنل میچ میں لوگوں کا جوش وجذبہ عروج کی انتہا پر جا پہنچتا ہےکہ دنیائے فٹ بال پر حکمرانی کا تاج کس ملک کے سر سجتا ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مرتبہ قطر وہ پہلا اسلامی عرب اور دوسرا ایشیائی ملک ہے جس کو تاریخ کا سب سے مہنگےفٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے جس پر میزبانی کے اخرجات تقریباََدو سوبیس ارب ڈالر بتائےجارہے ہیں۔
قطر نے عالمی کپ کے 64میچوں کے لیے آٹھ نئے اسٹیدیم تعمیر کئے ہیں اور یہ تمام اسٹیڈیم دارلحکومت دوحہ کی55کلومیٹر کی حدود کے دائرے میں واقع ہیں اور ہر اسٹیڈیم کو ایرکنڈیشنڈ بنایا گیا ہے ۔اس تقریب میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ،مصر ،ترکیہ اور الجزائر کے صدور ،اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اور دیگر اہم رہنما اور شخصیات شریک ہیں ۔تیل کی دولت سے مالا مال اور فٹ بال کے جنون میں غرق قطر اگلے ایک ماہ تک دنیاکی توجہ کا مرکز رہے گا جہاں دنیا کے سب سے بڑے کھیل کے مقابلے اور میلے کا بگل بج چکا ہے۔ یہ پہلا ورلڈ کپ ہے جو موسم سرما میں کھیلا جارہا ہے کیونکہ قطر کے انتہائی گرم موسم کو یورپی کھلاڑیوں کے لیے برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے ۔اب تک اس ورلڈ کپ کی پچیس لاکھ ٹکٹیں فروخت ہو چکی ہیں جو ریکارڈ ہے ۔ میلے کی افتتاحی تقریب ٹیلی ویژن پر دیکھی جس کا آغاز “البیت سٹیڈیم جس میں ساٹھ ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے ایک عالمی معیار کی رنگا رنگ تقریب سے ہوا ،جہاں عالمی شہرت یافتہ فنکاروں نے اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور میوزک کے تڑکے سے شائقین کا لہو گرمایا تو احساس ہوا کہ یہ ورلڈ کپ تاریخ کا ایسا منفرد عا لمی ورلڈ کپ ہو رہا ہے جہاں دین اسلا م اور اسکے زریں اصولوں کو اجاگر کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی گئی ہے ۔ جہاں دنیا میں پہلی مرتبہ کسی عالمی ورلڈ کپ کا آغاز اللہ تعالیٰ کے پاک نام اور قرآن کریم کی تلاوت سے ہوا جس نے تقریب کو مزید روح پرور اور پر نور بنادیا ۔یہ تلاوت قرآن کریم ایک خصوصی معذور حافظ قرآن عربی نوجوان غانم نے کی جس کی آواز نے ہر کسی کو سحر انگیز کردیا تھا ۔ورلڈ کپ کے دوران دنیا بھر سے آئےہوئے شائقین کےلئےتمام اسٹیڈیمز میں وضو خانے اور نماز کااہتمام کیا گیا ہے ۔اسٹیڈیم میں میچز کے دوران شراب پینے اور شراب بیچنے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے اور سخت سزائیں رکھی گئی ہیں ۔
قطری عوام دیگر خلیجی اسلامی ممالک کے عوام کی نسبت مسئلہ فلسطین اور فلسطینی عوام کے ساتھ زیادہ والہانہ لگاو ُاور ہمدردی رکھتے ہیں اس لیے اس عالمی ورلڈ کپ کے دوران قطری جھنڈوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی جھنڈے بھی بڑی تعداد میں دکھائے جا رہے ہیں جو فلسطین اور فلسطینی عوام کے ساتھ قطری حکومت اور عوام کی ان سے یکجہتی کا کھلم کھلا اظہار ہے ۔ قطر جیسے دنیا کے چھوٹے سے اسلامی ملک نے عالمی سطح کے ایک بڑے ایونٹ اور میلے کے لئے جہاں کامیابی کے ساتھ شاندار انتظامات کیے ہیں دوسری جانب اس ایونٹ کے ذریعے اپنی مذہبی تعلیمات اور قومی ثقافت کو اجاگر کرنے کا اہتمام بھی کر کے قطر کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل بھی جیت لیے ہیں۔اس ورلڈ کپ کی ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ ایونٹ کے میچز دنیا میں پہلی بار خواتین ریفری سپروائز کر رہی ہیں ۔ اس ورلڈ کپ کے انتظامات اور تیاری میں پاکستانی ورکرز ،انجینئرز ،ڈاکٹرز اور بےشمار تربیت یافتہ افراد خدمات انجام دے رہے ہیں۔پاکستا ن کو اس ورلڈ کپ میں دو اہم اور بڑے اعزاز بھی ملےہیںکہ اس ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والے تمام فٹ بال پاکستان کے مشہور شہر سیالکوٹ سے بنواے گئے ہیں اور پاکستان کے فوجی دستے معاہدے کے تحت ورلڈ کپ کی سیکیورٹی سنبھال رہے ہیں جو ہمارے ملک اور قوم کے لیے قابل فخر ہوگا ۔ ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ دنیا کی تمام قوموں ،عقیدوں اور تہذیبوں کا اتحاد اور یگانگت دیکھنے کا موقع مل رہا ہے اور قطر کی ثقافت اور روایات کے ساتھ ساتھ اسلامی تشخص اجاگر کرنے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.