پیپلزپارٹی کا یومِ تاسیس

نوابزادہ افتخاراحمدخان

آج سے 56 سال قبل 1967 پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا دن ہے جس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔اس دن ایک نئے دور کا آغاز ہوا، ایک نئی سوچ نے جنم لیا اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان پیپلزپارٹی کے قیام کی صورت میں عوامی سیاست کی بنیاد رکھی گئی۔اس جماعت نے پاکستان میں ایک نیا سیاسی کلچر متعارف کرایا۔ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت کی بدولت پاکستان میں پہلی مرتبہ سیاست کو عوامی رنگ ملا۔سیاست ڈرائنگ روم سے نکل کر گلی محلے تک آ گئی اور انہوں نے “سٹیٹس کو” والی سیاست کی بجائے انقلابی سیاست کا راستہ اختیار کیا۔انہوں نے اپنی سیاست کے آغاز ہی میں ایوب خان سے بغاوت کرکے عوام میں جلد ہی بےپناہ مقبولیت حاصل کر لی۔چنانچہ جب وہ وزارت سے مستعفی ہو کر بذریعہ ٹرین لاہور آئے تو عوام کے جمِ غفیر نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور انہیں اپنا مقبول لیڈر مانا۔پاکستان پیپلزپارٹی کا تاسیسی اجلاس لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے لوگوں نے شرکت کی اور اس نمائندہ اور تاریخی اجتماع میں ذوالفقار علی بھٹو کو متفقہ طور پر اس نئی پارٹی کا سربراہ منتخب کر لیا گیا۔ اس کنونشن میں پارٹی کے بنیادی نظریات کی ترجمانی کرنے والے چار اصول مرتب کیے گئے اور انہیں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل کے لئے مختلف کمیٹیاں مقرر کر کے ذمہ داروں کی تقسیم کردی گئی۔اس اہم تاریخ ساز واقعے کی صرف چند اخبارات نے خبریں شائع کیں۔نئی پارٹی کے قیام سے آمریت کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہو گیا اور فرسودہ سیاستدانوں نے نئی پارٹی کے قیام پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور ڈرائنگ روم سیاستدانوں نے یوں تبصرہ کیا کہ۔۔۔”چند لڑکوں کا ہجوم دیکھ کر بھٹو کا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔بھلا یہ لڑکے ،بالے اور تانگے ریڑھی والے سیاست پر کیا اثرانداز ہو سکتے ہیں ۔چند دنوں کی بات ہے بھٹو خود راہِ راست پر آ جائے گا”پاکستان پیپلزپارٹی تاریخ کے نازک موڑ پر ملک کے مظلوم طبقات کی نمائندہ آواز بن کر ابھری، گھٹاٹوپ اندھیرے میں امید کی کرن ٹوٹ پڑی، عوامی شعور نے ایک نئی کروٹ لی، سیاست محلات سے نکل کر گلی محلوں میں آ گئی، روایتی سیاستدانوں، وڈیروں کو ڈرائنگ روم سے نکل کر میدانوں اور کھیت کھلیانوں میں آنا پڑا۔ پاکستان کے عوام کو پاکستان پیپلزپارٹی کی صورت میں ایک نیا پلیٹ فارم مل گیا ۔اس طرح پی پی پی نے معاشرے کے پسماندہ طبقات کو باقاعدہ سیاسی بنیادوں پر منظم کرنے کا ایک تاریخی فریضہ سرانجام دیا۔کسان، مزدور، طلباء، نوجوان، خواتین و نچلے طبقے پاکستان پیپلزپارٹی کے پرچم تلے اکٹھے ہو گئے جبکہ جاگیردار، افسر شاہی، بڑے تاجر، سرمایہ دار اور مُلاں مل کر بھٹو اور اس کی پارٹی کے خلاف طبقاتی طور پر اکٹھے نظر آنے لگے۔اس موقع پر گورنر مغربی پاکستان جنرل موسیٰ نے کہا کہ۔۔۔۔” ذوالفقار علی بھٹو کے جلوسوں میں تانگہ، رکشہ، ٹیکسی اور گدھا گاڑیوں والے ہی شامل ہوتے ہیں “چئیرمین ذوالفقار علی بھٹو نے عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ملک میں عوامی دوروں کا آغاز کیا اور نئی پارٹی کے منشور کو سادہ لفظوں میں عوام کو سمجھانے کی کوششیں جاری کردیں اور دو تین سالوں کے دوران انہوں نے پیپلزپارٹی کو حقیقی معنوں میں عوام کی پارٹی بنادیا اور پیپلزپارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں 1970 کے انتخابات میں مغربی پاکستان میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور بڑے بڑے برج الٹ دیئے مگر افسوس سازشی ٹولے نے پاکستان کو دو لخت کردیا اور 20 دسمبر 1971 کو اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے سپرد کردیا گیا۔اقتدار کیا تھا جو بھٹو کو دیا گیا بس ایک فریب زدہ، شکست خوردہ اور حوصلوں سے محروم قوم۔بھٹو نے ہارے ہوئے ملک کو نئی زندگی عطا کی، ملک کو متفقہ آئین اور جمہوریت دی، مسلم ممالک سے نئے رشتے استوار کئے، ایک لبرل پاکستان ترقی کے منازل طے کر رہا تھا کہ 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا، آئین اور جمہوریت دونوں کا خون کر ڈالا اور 4 اپریل 1979 کو بھٹو کو پھانسی دے دی ۔جنرل ضیاء اور دائیں بازو کی جماعتوں کا خیال تھا کہ بھٹو کو جسمانی طور پر ختم کر کے انہوں نے بھٹو سے جان چھڑا لی ۔انہیں یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ مُردہ بھٹو زندہ بھٹو سے بھی زیادہ طاقتور ثابت ہو گا ۔بھٹو آج بھی عوام کے دلوں اور ذہنوں میں زندہ ہیں اور بھٹو کی بنائی ہوئی پاکستان پیپلزپارٹی آج بھی غریب اور کمزور طبقوں کی نمائندہ جماعت ہے ۔(نوابزادہ افتخاراحمدخان ممبر نیشنل اسمبلی ،مشیروزیراعظم پاکستان امورکشمیر گلگت بلتستان اور سیکرٹری انفارمیشن پاکستان پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب ہیں)

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.