فیکٹ چیک: قطر میں ورلڈ کپ کی خاطر کتنے افراد ہلاک ہوئے؟

جان ڈی والٹر/میٹ فورڈ

جب سے قطرhttp://قطر نے 2022 ء کے ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق حاصل کیے ہیں، یہ بحث کی جا رہی ہے کہ قطر میں غیر ملکی کارکنوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے اور اب تک کتنے انسان اس مقابلے کی تیاری کے سلسلے میں جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ قطر میں ورلڈ کپ کے تعمیراتی مقامات پر کتنے مزدور ہلاک ہوئے، اس کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں، لیکن حقیقی اعداد و شمار کا پتہ لگانا مشکل کا ہے۔ اس فیکٹ چیک میں فیفا، قطری حکام، انسانی حقوق کے گروپوں اور میڈیا کی جانب سے شائع کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان اعداد و شمار کو کبھی حقیقت، کبھی گمراہ کن اور کہیں غلط قرار دیا جاتا رہا ہے۔ فیکٹ چیک کے مصنفین اس بات سے واقف ہیں کہ یہ اعداد و شمار ان مصائب کا محض ایک مبہم تاثر ظاہر کرتے ہیں، جن کا سامنا قطر میں تارکین وطن کارکنوں کو کرنا پڑتا ہے۔
دعوی: ’’قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری میں 6,500یا پھر 15,000تک غیر ملکی مزدور ہلاک ہوئے۔‘‘ڈی ڈبلیو فیکٹ چیک: غلطایمنسٹی انٹرنیشنل کی سن 2021میں شائع کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کے سلسلے میں 15,021 تارکین وطن مزدور ہلاک ہوئے۔ اسی طرح ’دی گارڈین‘ نے فروری 2021 ء میں رپورٹ شائع کی جس میں ہلاکتوں کی تعداد 6,500 بتائی گئی۔ اگرچہ ان دنوں رپورٹوں کو اس دعوے کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاتا کہ کہ فٹ بال ورلڈ کپ کی تیاری کے سلسلے میں اتنے افراد مارے گئے۔ تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور نہ ہی گارڈین نے کبھی یہ دعوی کیا ہے کہ یہ تمام افراد کسی اسٹیڈیم کی تعمیر کے مقام پر یا ورلڈ کپ کی تیاری کے سلسلے میں شروع کردہ کسی اور منصوبے کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ دونوں اعداد و شمار صرف مختلف قومیتوں اور مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے ایسے غیر ملکی شہریوں کا حوالہ دیا گیا ہے جو گزشتہ دہائی کے دوران قطر میں ہلاک ہوئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے 15,021 افراد کا حوالہ دیا گیا ہے جو خود قطری حکام کے سرکاری اعداد و شمار سے حاصل کیا گیا ہے اور اس میں سن 2010سے 2019ء کے درمیان ملک میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی باشندوں کی تعداد کا حوالہ دیا گیا ہے۔ سال 2011 سے 2020 ء کے درمیان یہ تعداد 15799 تھی۔ ان اعداد و شمار میں نہ صرف کم تعلیم یافتہ مزدور، سکیورٹی اہلکار یا مالی شامل ہیں بلکہ غیر ملکی اساتذہ، ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر کاروباری افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور دیگر ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے تھے جب کہ کئی دیگر متوسط یا اعلی آمدنی والے ممالک سے آئے تھے۔ قطری حکومت کے اعداد و شمار میں اس سے زیادہ تفصیل موجود نہیں ہے۔ جہاں تک دی گارڈین کی رپورٹ کا تعلق ہے، صحافی پیٹ پیٹیسن اور ان کی ٹیم نے بنگلہ دیش، بھارت، نیپال، پاکستان اور سری لنکا کی حکومتوں کے سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر 6,751 ہلاکتوں کا ذکر کیا۔ قطر میں زیادہ تر غیر ملکی مزدورں کا تعلق ان ہی ممالک سے ہے۔ قطر حکام ان اعداد و شمار سے انکار نہیں کرتے۔ دی گارڈین کے جواب میں قطری حکومت کے محکمہ مواصلات نے کہا، ’’اگرچہ کسی بھی زندگی کا نقصان پریشان کن ہے، لیکن ان برادریوں (یعنی غیر ملکی کارکنوں) میں اموات کی شرح آبادی اور ڈیموگرافکس کے مطابق متوقع حد کے اندر ہے۔لیکن کیا یہ بات سچ ہے؟
دعوی ’’ان برادریوں میں اموات کی شرح آبادی اور ڈیمو گرافکس کے مطابق متوقع حد کے اندر ہے۔ ڈی ڈبلیو فیکٹ چیک: گمراہ کنقطری حکومت کے مطابق اموات کی سالانہ اوسط شرح 20لاکھ افراد میں سے 1500 اموات ہیں۔ سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق قطر میں غیر ملکی کارکنوں کی شرح اموات ان کے اپنے آبائی ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ بلکہ قطری شہریوں کے مقابلے میں بھی غیر ملکی کارکنوں میں اموات کی شرح کم ہے۔ تاہم یہ پیش نظر رکھتے ہوئے کہ قطر میں موجود غیر ملکی کارکن اپنے آبائی ممالک یا قطر کی عام آبادی کی نمائندگی نہیں کرتے، اس طرح کے اعداد و شمار گمراہ کن ہیں۔ قطر کی مقامی آبادی میں بچوں اور بوڑھوں کا تناسب، اور ایسے افراد جن میں اموات کی شرح زیادہ ہوتی ہے، ایسے عوامل کو پیش نظر رکھا جائے تو تارکین وطن مزدوروں میں شرح اموات کا تقابل کسی بھی ملک کی مقامی آبادی سے نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں قطر آنے والے کسی پیشے سے بھی وابستہ غیر ملکی کارکن کو قطری ویزا حاصل کرنے کے لیے طبی جانچ پڑتال کے پورے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ یوں ایڈز، ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور سی، سیفیلس یا تپ دق جیسی متعدی بیماریوں میں ممکنہ طور پر مبتلا درخواست دہندگان کو ویزے نہیں ملتے۔ اس کے علاوہ ایسے اعداد و شمار میں ان غیر ملکی مزدوروں کو بھی شامل نہیں کیا گیا جو اپنے آبائی ممالک لوٹنے کے بعد انتقال کر جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ دس برسوں کے دوران میں نیپالی حکام نے 20 تا 50 برس عمر کے مرد شہریوں میں گردے فیل ہونے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا۔ ان میں سے بہت سے افراد مشرق وسطی میں کام کرنے کے بعد وطن واپس آئے تھے۔ نیپال میں صحت کے ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کے موسمی حالات میں سخت محنت اور پینے کے پانی کی کم مقدار اور کم معیار کو دیکھا جائے تو گردوں کے امراض میں اضافے کی وجہ سمجھ آتی ہے۔دعوی: ’’ورلڈ کپ اسٹیڈیمز کی تعمیر کے مقامات پر کام کرتے ہوئے صرف تین اموات ہوئی ہیں‘‘ڈی ڈبلیو فیکٹ چیک: گمراہ کنفیفا اور قطری ورلڈ کپ آرگنائزنگ کمیٹی کا اصرار ہے کہ ورلڈ کپ کے تعمیراتی مقامات پر کام کرتے ہوئے صرف تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ فیفا اور قطری حکومت’کام کرتے ہوئے اموات‘ سے یہ مراد ایسی اموات ہیں جو سات نئے اسٹیڈیمز کی تعمیر اور گزشتہ دہائی کے دوران تربیت کے لیے بنائی گئی سہولیات کی تعمیر کے دوران ہونے والی اموات ہیں۔ مرنے والے تین افراد میں دو نیپالی شہری شامل ہیں جو الوکرہ کے الجنوب اسٹیڈیم کی تعمیر کے دوران ہلاک ہوئے اور ایک برطانوی شہری ہے، جو الریان کے خلیفہ انٹرنیشنل اسٹیڈیم کی تعمیر کے دوران ہلاک ہوا۔ حکام نے ان امواد کے علاوہ ’کام سے غیر متعلقہ اموات‘ کے سلسلے میں بھی دیگر 37 افراد کے مرنے کی تصدیق کی۔ ایسی اموات میں مثال کے طور پر دو بھارتی اور ایک مصری شہری بھی شامل ہیں جو نومبر 2019 ء میں اپنی رہائش گاہ سے کام پر جاتے ہوئے راستے میں ٹریفک حادثے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم قطر کو ورلڈ کپ کی میزبانی ملنے سے صرف اسٹیڈیم ہی نہیں بلکہ اس خلیجی ریاست میں دیگر تعمیراتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ ٹورنامنٹ سے متعلقہ منصوبوں کا ایک پورا سلسلہ شروع ہوا جس میں نئی موٹر ویز، ہوٹل، ایک نیا میٹرو سسٹم، ہوائی اڈے کی توسیع اور دوحہ کے شمال میں لوسیل کے مقام پر ایک پورا نیا شہر بسانے جیسے منصوبے شامل ہیں۔ فیفا کا دعوی ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے عروج کے دنوں میں بھی ورلڈ کپ کے لیے مختص مقامات پر قریب 30 ہزار افراد کو ملازمت دی گئی تھی۔ یوں صرف تین اموات کا آفیشل اعتراف کرنے سے ایسی اموات کو شمار نہیں کرتا جو کسی ایسے تعمیراتی منصوبے کے دوران ہوئیں جن کا وجود شاید ورلڈ کپ کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ اسی طرح کام کے بعد اپنی رہائش گاہ پر مرنے والے غیر ملکی مزدوروں کی اموات کے ہزاروں واقعات کو بھی شمار نہیں کیا گیا۔ ان اموات کی واضح وجوہات کا تعین بھی نہیں کیا گا۔ دی گارڈین اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیق کے مطابق قطری ڈاکٹروں نے تقریبا 70 فیصد اموات کو ’قدرتی موت‘ قرار دیا جو شاید ‘دل یا سانس کے بند‘ ہو جانے سے واقع ہوئیں۔ تاہم طبی ماہرین کے مطابق دل اور سانس کا بند ہونا موت کی وجوہات نہیں بلکہ نتائج ہیں۔ دل کی بندش کی وجہ دل کا دورہ یا دیگر بے قاعدگی ہوسکتی ہے جب کہ سانس کی بندش کسی الرجی کے ردعمل یا زہر کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔ لیکن ایسی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔ جرمن پبلک براڈکاسٹر اے آر ڈی کی 2022 ء کی ایک دستاویزی فلم سیریز میں قطری ڈاکٹروں نے یہاں تک بتایا ہے کہ انہیں اس طرح کے ’ڈیتھ سرٹیفکیٹ‘ جاری کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ سن 2014 کے اوائل میں قطری حکومت کی کمیشن کردہ ایک آزادانہ رپورٹ میں ’ڈی ایل اے پائپر‘ نامی قانونی فرم نے اس عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ‘سختی سے سفارش‘ کی کہ حکومت ”غیر متوقع یا اچانک موت کی صورت میں پوسٹ مارٹم کی اجازت دے۔‘‘ سن 2021 کے اواخر میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے بھی حادثات اور اموات کی وجوہات کی جانچ اور مناسب دستاویزات کی کمی پر تنقید کی تھی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے انٹرویو کیے گئے ماہرین کے مطابق ’مناسب طریقے سے منظم نظام صحت‘ کی موجودگی میں صرف ایک فیصد واقعات میں موت کی درست وجوہات کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں 85 فیصد واقعات میں تفصیلی پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی موت کی درست وجہ معلوم ہو سکتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فیئر اسکوائر جیسی انسانی حقوق کی تنظیمیں کئی ایسے عینی شاہدین سے بات کرتی ہیں، جن کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ہیٹ اسٹروک، تھکاوٹ یا معمولی امراض کا علاج نہ کیے جانا بہت سی اچانک اموات کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ ورلڈ کپ کے سلسلے میں ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار کئی عوامل اور تعریفوں پر منحصر ہیں، جیسے تارکین وطن کارکن کہاں سے آئے، کہاں اور کب ان کی موت ہوئی، اور کیا ان کی موت کو ’کام کے دوران موت‘ قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم قطر کے اپنے سرکاری اعداد و شمار میں تضادات اور خامیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں۔ یوں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قطری حکام قابل اعتماد معلومات فراہم کرنے سے قاصر کیوں ہیں؟ فیکٹ چیک کے مصنفین ایمنسٹی انٹرنیشنل سے ایلن ویسملر، گارڈین سے پیٹ پیٹیسن اور فیئر سکوائر سے نکولس میک گیہان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنے اعداد و شمار اور نتائج کو سمجھنے میں ہماری مدد کی۔ بدقسمتی سے قطر، پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، نیپال، اور سری لنکا کے حکام نے متعدد بار رابطہ کرنے کے باجود اشاعت کے وقت جواب نہیں دیا۔
بشکریہ ڈی ڈبلیو

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.