لودھراں: کہروڑ پکا میں عطائی ڈاکٹروں نے بھی محکمہ صحت کےکارڈپرآپریشن کی اجازت حاصل کرلی

مختلف ڈاکٹروں سےکنٹریکٹ کرکے ان سےعارضی طور پر آپریشن کرانےلگے

السعید میمو ریئل ٹرسٹ ہسپتال میں خاتون کے رسولی کے آپریشن کے بدلے اسکو موت کےدہانےپر لے آئےجوو کٹوریہ ہسپتال بہاولپور میں موت و حیات کی کشمکش میں ہےجہاں ماہرسرجنز کی نگرانی میں ایک بورڈ انکو زندگی میں واپس لانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔اسسٹنٹ کمشنر کہروڑپکا محمد اشرف صالح نےورثا کی درخواست پر کاروائی شروع کردی۔ تفصیل کیمطابق کہروڑپکامحلہ پیر برہان کارہائشی شہزاد کاروبار کے سلسلہ میں دبئی میں مقیم ہے
اسکے بھائی دلشاد اور متاثرہ خاتون ارشاد بیگم کےبھائی اور بھابھی کےہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 12 نومبر کو اسکی بھابھی کےپیٹ میں تکلیف ہوئی وہ انہیںلےکرمیلسی روڈ کہروڑ پکا پر السعید ٹرسٹ میموریل ہسپتال لے گئے جہاں انتظامیہ نے مریضہ کو داخل کرکے فوری آپریشن تجویز کیا اورمریضہ کا شناختی کارڈ لے کر بہاولپور سے ڈاکٹر نعیم نامی کسی ڈاکٹر کو بلایااور فوری آپریشن کرکے بتایا کہ مریضہ کے پیٹ سے رسولی نکال دی گئی ہیں جسکے بعد ڈاکٹر واپس چلا گیا
۔14نومبرکو عملےنےبغیر ڈاکٹر کو چیک کرائے مریضہ کو فارغ کر دیا ،گھر جاکر مریضہ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی وہ ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹر نعیم سے رابطہ کرتے رہے، ڈاکٹر نعیم نے کہا کہ وہ تو کہروڑپکا اسی وقت آئیں گے جب کوئی سرجری ہوگی ۔زخم میں انفیکشن پھیلنے پر عملے نے مریضہ کو دوبارہ داخل کرلیا۔ چوتھے دن ڈاکٹر نعیم ہسپتال دنیا روڈ پر کوئی آپریشن کر رہے تھے کہ ورثا وہاں پہنچ گئے۔انکے احتجاج پر انہوں نے ہسپتال پہنچ کر مریضہ کا ایک اور مبینہ آپریشن کرنے کا بتایاتاہم مریضہ کی دیکھ بھال نہ کی گئی جس سے اسکی حالت بگڑگئی ،عملے نے بار بار رابطے کے باوجود مریضہ کو دیکھنا بھی گوارا نہ کیا اورہسپتال کیساتھ کرکٹ کھیلتے رہے،احتجاج پرورثا سے بدتمیزی کی۔ورثانے ڈاکٹر نعیم سے رابطہ کرکے مریض کو بہاولپور ریفر کرنے کا مطالبہ کیا لیکن ڈاکٹر نے توجہ نہ دی ۔مریضہ کی حالت تشویشناک ہونے پر ورثااسے بہاولپور ہسپتال لےجانا چاہ رہے تھے تو عملہ نےشناختی کارڈ دینے سے انکار کر دیا۔ 22 نومبر کو مریضہ کو وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور لے گئے
جہاں انہوں نے مریضہ کی تشویشناک صورت حال کے باعث اسے داخل کرنے سے انکار کر دیا،لواحقین نے منت سماجت کی توفوری آپریشن تجویز کیا اور بی۔وی ہسپتال کے 5 سینئر سرجن ڈاکٹرز نے مریضہ کا اپریشن کر کے جسم سے زہر نکالدیا لیکن 3روز گزرنے کے باوجود اسےہوش نہیں آیاجبکہ ڈاکٹر بھی مریضہ کی زندگی سے مایوس نظر آتے ہیں ۔ورثانے بتایا ہے کہ ہسپتال عطائیوں کو ٹھیکہ پر دیا گیا ہے جو عوام کی صحت سے کھیل رہے ہیں اور صحت کارڈ کی رقم ہتھیانے کے لئے معمولی معاوضہ پر ڈاکٹرز سے ٹھیکہ کر رکھا ہے
جو ان کےطلب کرنے پر آکر آپریشن کرتے ہیں لیکن ایمرجنسی میں نہیں ملتے۔انہوں نے واضح کیا کہ ہماری مریضہ کو کچھ ہوا تو ذمہ داری السعیدمیموریل ٹرسٹ ہسپتال کی انتظامیہ ہو گی ۔اسی دوران محمد دلشاد حسین نے اسسٹنٹ کمشنر کہروڑپکا محمد اشرف کو تحریری درخواست پیش کی اور انکو فوٹو ز اورثبوت پیش کئے جس پر اسسٹنٹ کمشنر کہروڑپکا نے فوری کارروائی کا آغاز کر دیا۔ورثا نےمطالبہ کیا کہ ٹرسٹ ہسپتال کے خلاف فوری طور پر کاروائی کر کے سیل کیا جائے اور مالکان کیخلاف کارروائی کی جائے،السعید میموریل ٹرسٹ ہسپتال انتظامیہ سے موقف کیلئے متعدد بار رابطہ کی کوشش کی گی مگر رابطہ نا ہوسکا ۔

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.