گندم کی پیداوار میں اضافے کی سوچ ۔۔۔۔۔ مگر کیسے۔۔۔۔۔؟

روزنامہ بیٹھک ملتان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے کاشتکاروں کو گندم کا بیج و دیگر زرعی لوازمات پر سبسڈی فراہم کی جارہی ہے

 سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے کاشتکاروں کو حکومت پنجاب گندم کے بیج و دیگر زرعی لوازمات پر سبسڈی کی سہولت فراہم کررہی ہے تاکہ آئندہ فصل سے بھرپور پیداوار کرکے ملک میں فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔ان خیالات کا اظہار حکومت کے نمائندوں نے محکمہ زراعت پنجاب اور نجی کھادکمپنی کے باہمی تعاون سے ڈیرہ غازی خان میں زیادہ گندم اگاؤ مہم کے سلسلہ میں منعقدہ کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ رپورٹ کے مطابق کاشتکاروں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کیلئے ایڈوائزری سروسزڈور سٹپ پر فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نہروں کے شگاف بروقت مکمل کرکے گندم کی بوائی کیلئے کاشتکاروں کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔حکومت پنجاب گندم کے زیرِ کاشت رقبہ اور پیداوار میں اضافہ کے لئے کاشتکاروں کوگندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ کے تحت سبسڈی کی سہولت اور ترغیبات فراہم کر رہی ہے۔ اس موقع پرڈائریکٹر زراعت توسیع نے کہا کہ امسال نومبر میں ہی ڈی جی خان ڈویژن میں گندم کی کاشت کا مقررہ ہدف 24 ایکڑ حاصل کرلیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکار اوائل نومبر میں کاشتہ گندم کی فصل کوکھاد اور پہلاپانی بروقت لگائیں کیونکہ اس مرحلہ پرکسی بھی قسم کی تاخیر پیداوار متاثر کرسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ پنجاب کے لئے گندم کی کاشت کا ہدف1کروڑ65 لاکھ ایکڑ جبکہ پیداواری ہدف2 کروڑ20 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کیا گیا ہے جس کے حصول کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔گزشتہ سال ضلع ڈی جی خان میں 5لاکھ 88 ہزار ایکڑ رقبہ پر گندم کاشت ہوئی جس سے7 لاکھ55ہزار ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ میگا فارمر گیڈرنگ اور صوبائی و ضلعی سطح پر پیداواری مقابلہ جات کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں میں تحریک اورترغیب کے ذریعے زیادہ سے زیادہ رقبہ پر گندم کی بروقت کاشت کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ گندم کی اضافی پیداوار سے ملک میں فوڈ سیکیورٹی کی صورتحال کو اطمینان بخش بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ گندم کی پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ کے تحت12 ارب59 کروڑ روپے کی لاگت سے گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے کاشتکاروں کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔گندم کو منافع بخش بنانے کیلئے بوائی سے قبل ہی اس کی امدادی قیمت بڑھاکر 3000روپے فی 40 کلوگرام مقررکر دی ہے تاکہ کاشتکارگندم کو ایک منافع بخش فصل کے طور پر زیادہ سے زیادہ رقبہ پر کاشت کریں۔ڈائریکٹر زراعت توسیع نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کو گندم کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے متعلق آگاہی اور فنی رہنمائی کے لئے محکمہ زراعت توسیع کا عملہ کاشتکاروں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ نجی کمپنی کے زرعی ماہرڈاکٹر سعید اقبال نے گندم کی فصل میں کھادوں کے متوازن استعمال پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کاشتکاروں کو سفارش کی کہ وہ گندم کی فصل میں فاسفورسی اورنائٹروجنی کھادوں کے توازن کا خاص خیال رکھیں۔اس موقع پر ممبرصوبائی اسمبلی حنیف خان پتافی، سمیت محکمہ زراعت کے افسران اور کسانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پنجاب ملک بھر میں گندم کی پیداوار کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جو دوسرے صوبوں کی غذائی ضروریات پوری کرتا تھا مگر جب سے پنجاب میں ہاؤسنگ سکیم اور سوسائٹیز کا سیلاب آیا ۔ ہزاروں ایکڑ اراضی کے سینے میں پتھر اور سیمنٹ اتار دیا گیا ۔ زرخیز زمین پر مکانات تعمیر ہو گئے تو گندم سمیت دیگر زرعی اجناس اور غذائی ضروریات کی کمی ہونا شروع ہو گئی ۔ جس کے نتیجے میں اب گندم باہر سے منگوائی جاتی ہے ۔ یہ ہے ہماری حکومت کی زرعی پالیسی کا حال کہ اب نہ گندم پوری اور نہ ہی مزید زرعی اور زرخیز زمین پر مکانات کی تعمیر کو روک لگائی گئی ہے بلکہ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے ۔ جو کسی المیے سے کم نہیں ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کسانوں کو مراعات دینے کے ساتھ ساتھ زرخیز زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے پر پابندی عائد کرے۔

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.