ہماری خوراک ہی ہماری موت کی وجہ ؟

نوید نقوی

یہ سنہ 2004 کی بات ہے جب میں مڈل کلاس میں پڑھتا تھا۔ ایک دن سکول سے واپسی پر اپنے گھر کے ساتھ کینال ریسٹ ہاؤس بنگلہ ہیڈ ملکانی میں لوگوں کا رش دیکھا، پیارے دوست سلیم چشتی سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا یہاں دنگل ہوگا یعنی کشتی اور کوڈی ( کبڈی نما کھیل) کے مقابلے ہوں گے، جس میں ضلع راجن پور اور رحیم یار خان کے معروف پہلوان اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے۔جب یہ مقابلے دیکھے تو اپنے دیسی پہلوانوں کی پھرتی، طاقت اور داؤ پیچ دیکھ کر اس دن عہد کیا کہ ایک دن میں بھی ان صحت مند پہلوانوں کی طرح باڈی بناکر دکھاؤں گا لیکن یہ خواب، خواب ہی رہا جو کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا، آپ سوچیں گے شاید میں اپنی سستی اور کاہلی کی وجہ سے پہلوانوں والا جسم نہ بنا سکا اور پہلوانوں کی طرح صحت مند جسم بنانا میرے بس کا روگ بھی نہیں تو آپ تصحیح کر لیں، میں نے اپنی پوری کوشش کی لیکن جب ناکامیوں پر ذرا غور کیا تو پتہ چلا میری خوراک ہی وہ نہیں جو ایک صحت مند جسم کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ میری طرح ہزاروں نوجوان اپنی صحت قابل رشک بنانا چاہتے ہیں لیکن ان کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے اور ان کو اگر مکمل خوراک ملتی بھی ہے تو وہ کم معیار کی حامل ہوتی ہے جو نقصان کا باعث بنتی ہےاور یہ صرف پاکستانیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا درد سر بن چکا ہے۔ کسی خطے میں خوراک کی قلت ہے تو کہیں ناقص خوراک مل رہی ہے۔حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ جو خوراک ہم استعمال کر رہے ہیں وہ سالانہ 11 ملین (ایک کروڑ دس لاکھ) افراد کی وقت سے پہلے موت کا باعث بن رہی ہے۔سائنسی جریدے لینسٹ کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ہماری روزمرہ کی خوارک تمباکو نوشی سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہے اور یہ دنیا بھر میں ہونے والی ہر پانچ ہلاکتوں میں سے ایک ہلاکت کا باعث بن رہی ہے۔تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق موٹاپے سے متعلق نہیں ہے بلکہ ا س کم معیار کی خوراک کے بارے میں ہے جو دل کو متاثر کر رہی ہے اور کینسر کا باعث بن رہی ہے اور جدید دنیا میں یہ سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ دی گلوبل برڈن آف ڈیزیز سٹڈی دنیا کی سب سے معتبر تحقیق ہے جو بتاتی ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں کتنے لوگ ہیں جن کی زندگیاں خوراک کی وجہ سے کم ہو رہی ہیں۔اس تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں بیج اور خشک میوے صحت مند خوراک سے غائب ہیں۔ ان کے تازہ تجزیے میں مختلف ممالک کے لوگوں کی کھانے کی عادات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے یہ جانچنے کے لیے کہ خوارک کیسے زندگی کو مختصر کر رہی ہے۔ضرورت سے زیادہ کھانا کھانا ایک ایسا مسئلہ ہے جو خطرناک بھی ہے اور اس میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں ایک اعشاریہ نو ارب افراد موٹاپے سے متاثر ہیں اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس تعداد میں 1975 سے لے کر اب تک تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ایک ممتاز ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ان کے 80 فیصد مریضوں کی بیماریوں کا تعلق طرزِ زندگی اور خوراک سے ہوتا ہے۔ ان بیماریوں میں ذیابیطس، موٹاپا اور ڈپریشن شامل ہیں۔خطرناک غذائیں وہ ہیں جن میں یہ اجزا پائے جاتے ہیں:بہت زیادہ نمک ۔ 30 لاکھ اموات اناج کا بہت کم استعمال ۔ 30 لاکھ اموات پھلوں کا بہت کم استعمال، 20 لاکھ اموات ۔اس کے علاوہ نٹس، بیج، سبزیاں، سِی فوڈ سے حاصل ہونے والے اومیگا 3 اور فائبر کی کم مقدار بھی زندگی کو مختصر کرنے والے عوامل میں شامل ہے۔نمک چاہے یہ روٹی میں ہو، سویا ساس یا پراسیس کیے ہوئے کھانوں میں یہ زندگی کو مختصر کر رہا ہے۔خوراک سے ہونے والی 11 ملین میں سے 10 ملین ہلاکتیں امراض قلب کے باعث ہو رہی ہیں اور یہ ظاہر کرتی ہیں کہ نمک اتنا بڑا مسئلہ کیوں ہے۔نمک کا بہت زیادہ استعمال بلند فشار خون کی وجہ بنتا ہے اور بلند فشار خون دل کے دورے اور سٹروکس کے ممکنہ خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔نمک کا براہ راست اثر دل اور خون کی شریانوں پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے دل ٹھیک طرح کام نہیں کر پاتا جس سے اس کے مکمل بند ہو جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں نمک کا استعمال بہت زیادہ ہے اور عوام کم علمی کی وجہ سے صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔پراسیسڈ فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال نمک کے استعمال میں اضافے کی ایک اور وجہ بن رہا ہے۔ چین میں نمک کے استعمال کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتیں سب سے زیادہ ہیں۔ اناج، پھلوں اور سبزیوں کا جسم پر اثر اس سے الٹا ہے۔ یہ دل کو محفوظ رکھتی ہیں اور امراض قلب کے خدشہ کو کم کر دیتی ہیں۔محققین روزانہ گری دار میوے، پھلیاں، سفید چنے اور دالیں استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ کینسر اور ٹائپ ٹو ذیابیطس خوراک کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی دوسری بڑی وجہ ہے۔تحقیق کرنے والے کا کہنا ہے کہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ صحت کے حوالے سے مہم چلانے والے مقوی غذاؤں جیسا کہ نشاستا اور شکر کی بجائے اپنی بحث کا مرکز صحت مند غذاؤں کی طرف کریں۔ ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں اگر ان خوراکوں کو روزمرہ کا معمول بنا لیا جائے تو انسانی صحت پر مثبت اثرات ہوں گے۔ یہ ایک متوازن غذا ہوگی۔ میوے: 50 گرام روزانہ پھلیاں،دالیں اور دیگر فلیان: 75 گرام روزانہ مھلی: 28 گرام روزانہ انڈے: 13 گرام روزانہ گوشت: گائے کا گوشت 14 گرام، مرغی کا گوشت 29 گرام روزانہکاربوہائڈریٹس: ثابت اناج مثلاً ڈبل روٹی اور چاول 232 گرام جبکہ نشاستہ دار سبزیاں 50 گرام روزانہدودھ : 250 گرام یعنی ایک دودھ کے گلاس کے برابرسبزیاں 300 گرام اور پھل 200 گرام روزانہاس غذا میں 50 گرام تیل مثلاً زیتون کا تیل اور 31 گرام چینی کے استعمال کی گنجائش بھی ہے۔تحقیق کرنے والوں کے مطابق دنیا بھر میں بری غذائیں متوقع عمر میں کئی برسوں کی کمی کر رہی ہیں۔یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں خوراک صحت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اس کا اثر بہت گہرا ہے اور خوراک کی وجہ سے ہی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔دنیا بھر میں بحیرہ روم کے ممالک خاص طور پر فرانس، سپین اور اسرائیل میں غذا سے متعلق اموات سب سے کم ہیں۔جبکہ جنوب مشرقی، جنوبی اور وسطی ایشیا میں صورتحال اس سے یکسر مختلف ہے۔اسرائیل میں غذا کی وجہ سے ہونے والی اموات سب سے کم ہیں یعنی کہ ایک لاکھ میں 89 افراد سالانہ جبکہ ازبکستان میں سب سے زیادہ یعنی ایک لاکھ میں 892 افراد سالانہ۔ بحیثیت مسلمان اسرائیل سے لاکھ اختلافات اپنی جگہ مگر یہ بھی ماننا چاہیئے یہ لوگ بلا کے ذہین اور باقی دنیا سے ایک قدم آگے ہیں ۔پوری دنیا میں یہ واحد قوم ہے جو سب سے زیادہ صحت مند ہے اور ان کی خوراک بھی اعلیٰ پیمانے کی ہے۔ اس کے برعکس اسلامی دنیا میں خوراک کے حوالے سے اموات کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور یہاں عوام کو خوراک کے حوالے سے کسی قسم کی منظم آگاہی حاصل نہیں ہے جس کی وجہ سے کینسر اور دیگر موذی بیماریوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آخر ایسا کیا کریں کہ ہم بھی مکمل صحت مند اور فٹ رہیں تو اس کے لیے ہمیں بھی عوام کو مکمل آگاہی دینے کے ساتھ ان کو کام کا شوقین اور فعال بنانا ہوگا کیونکہ اگر انسان چاہے عورت ہو یا مرد فعالیت والی زندگی گزاریں تو یہ ان کی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق سست یا غیر فعال رہنے والوں میں زیادہ تیزی سے بڑھاپا آنے کا خطرہ رہتا ہے، ایک شخص کی جیسے جیسے عمر دراز ہوتی ہے اس کی خلیات کی عمر بھی بڑھتی رہتی ہے۔ اس سے ڈی این اے کی حفاظت کرنے والے عناصر بھی کمزور پڑتے جاتے ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ اگر صحت اچھی نہ ہو اور طرز زندگی ٹھیک نہ ہو تو بڑھاپا تیزی سے آتا ہے۔ اس لیے بڑھاپے میں بھی انسان کو فعال رہنا چاہیے اور دن میں 10 گھنٹے سے زیادہ بیٹھنے سے گریز کرنا چاہیے دوسرا کام ہمیں یہ کرنا چاہیئے کہ ہر صورت خشک میوہ جات کھانے چاہئیں، اگر جیب اجازت نہ دے تب کسی اور سہولت کو ختم کر کے روزانہ کم از کم 60 گرام میوہ جات کھانے چاہئیں ان میں بادام، اخروٹ اور ہیزل نٹ بہترین ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ہر سات میں سے ایک جوڑے کو بچہ پیدا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور نصف سے زیادہ جوڑوں میں اس کی وجہ مرد ہیں، اس کی وجہ ناقص خوراک اور ورزش نہ کرنا ہے۔ اس لیے ہمیں بھی اگر ایک صحت مند قوم بنانی ہے تو وقت پر اپنی خوراک میں بہتری لانی چاہیئے ورنہ ہمارے پیسوں سے ڈاکٹرز کے بچے اچھی خوراک اور خشک میوے کھائیں گے۔

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.