کمیٹی گیٹ: لوگ کمیٹیاں کیوں ڈالتے ہیں اور کیا یہ بچت کا بہترین راستہ ہے؟

پاکستان میں حالیہ کچھ دنوں سے ایک ’کمیٹی گیٹ‘ کا بہت چرچا ہے جس میں مبینہ طور پر سینکڑوں خواتین کے کروڑوں روپے ڈوب گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک خاتون سدرہ حُمید کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اُنھوں نے ایک سو سے زائد کمیٹیوں کی انتظام کاری میں گڑبڑ کی ہے جس کے بعد وہ ان میں حصہ لینے والے لوگوں کو ان کی رقومات واپس کرنے سے قاصر ہیں۔
سدرہ نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں اس بات کی تو تصدیق کی ہے کہ وہ فوری طور پر رقوم ادا کرنے سے قاصر ہیں تاہم ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ رقم لے کر فرار نہیں ہو رہیں بلکہ تمام لوگوں کو ان کے پیسے واپس ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
اس کے علاوہ اُنھوں نے کمیٹیوں کی تعداد اور رقوم کی تصدیق نہیں کی، جو کچھ لوگوں کے مطابق 42 کروڑ روپے کے قریب ہے۔
اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر کمیٹیوں کے حق اور مخالفت میں ایک بحث جاری ہے اور کئی لوگ اس معاملے کی اصل وجہ پاکستان میں خواتین کی بالخصوص اور عوام کی بالعموم بینکاری سہولیات تک ناکافی رسائی کو قرار دے رہے ہیں تو کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کمیٹی کا نظام ہی سرے سے بے فائدہ ہے۔
اگر تو آپ پاکستان میں رہتے ہیں تو آپ نے بچپن سے ہی سنا ہو گا کہ گھر کی کسی ضرورت یا آپ کے کسی کام مثلاً نئی موٹرسائیکل یا فیس وغیرہ کے لیے والدہ نے کمیٹی ڈال رکھی ہے۔

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.