85 برس سے لاپتہ تسمانین ٹائیگر کی لاش میوزیم کی الماری سے مل گئی

دنیا کے آخری معلوم تسمانین ٹائیگر کی باقیات ایک آسٹریلوی میوزیم کی الماری سے مل گئی ہیں جو گذشتہ 85 برس سے لاپتہ تھیں۔

یہ تھائیلاسائین سنہ 1936 میں ہوبارٹ کے ایک چڑیا گھر میں ہلاک ہو گیا تھا اور اس کی باقیات ایک مقامی میوزیم کو دے دی گئی تھیں مگر یہ بات راز رہی کہ اس کے ڈھانچے اور کھال کے ساتھ بعد میں کیا ہوا۔
تسمانیئن میوزیم اینڈ آرٹ گیلری کو یہ علم نہ رہا کہ یہ باقیات کہاں ہیں اور مان لیا گیا کہ انھیں پھینک دیا گیا ہے۔
نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ تب سے اب تک میوزیم میں ہی محفوظ حالت میں تھیں مگر ان کا درست اندراج نہیں کیا گیا تھا۔
سنہ 2000 میں اس نوع کی معدومیت پر کتاب لکھنے والے رابرٹ پیڈل نے لکھا کہ ’کئی برسوں تک میوزیم کیوریٹرز اور محققین اس کی باقیات تلاش کرتے رہے مگر ناکامی ہوئی کیونکہ تھائیلاسائین کا کوئی مٹیریل سنہ 1936 کی تاریخ میں درج نہیں ہوا تھا۔‘ ’چنانچہ یہ مان لیا گیا کہ اسے پھینک دیا گیا ہے۔‘ مگر اُنھیں اور میوزیم کے ایک کیوریٹر کو ایک ٹیکسیڈرمسٹ یعنی مردہ جانوروں کو محفوظ بنانے کے ذمہ دار شخص کی ایک غیر شائع شدہ رپورٹ ملی جس کی وجہ سے اُنھوں نے اس میوزیم کی کلیکشن کا دوبارہ جائزہ لیا۔
اُنھوں نے پایا کہ اس مادہ تسمانین ٹائیگر کی باقیات میوزیم کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ایک الماری میں رکھی ہوئی تھیں۔

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.