مصطفی نواز کھوکھر نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کی خبروں کی تردید کر دی

میرا پیپلزپارٹی کے بعد کسی جماعت میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ مصطفی نواز کھوکھر

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے ساتھ بہترین تعلقات ہونے کے باجودہ پارٹی چھوڑنا کتنا مشکل فیصلہ تھا کہ جواب میں کہا کہ دکھ تو انسان کو ہوتا ہے لیکن کیا کریں زندگی ہے، پارٹی چھوڑنے کی وجہ سب جانتے ہیں۔
انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت کے سوال پر کہا کہ کسی جماعت میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،سیاسی جماعتیں دائیں بازوں کی ہیں۔
میں اس خوش فہمی کا شکار نہیں ہوں کہ کوئی جماعت مجھے پارٹی کا حصہ بنانے میں خواہشمند ہے،میں چاہوں گا کہ آزاد حیثیت کو برقرار رکھوں۔خواہش ہے آئندہ الیکشن بطور آزاد امیدوار لڑوں۔پچھلے کچھ سالوں سے جس طرح کی سیاست پاکستان میں چل رہی ہے اس میں کوئی چاشنی بھی باقی نہیں رہی۔
میرا نقطہ نظر الگ ہے۔۔ خیال رہے کہ سابق سینیٹرمصطفیٰ نواز کھوکھر باضابطہ طور پر پیپلزپارٹی چھوڑنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ پیپلزپارٹی کیلئے نیک تمنائیں اورنیک خواہشات رکھتا ہوں، جس دن استعفا لیا گیا تھا اس کے بعد کچھ نہیں بچا تھا، سیاسی مستقبل کا فیصلہ ساتھیوں سے مشاورت کے بعد کروں گا۔ یاد رہے پیپلزپارٹی کے رہنماء مصطفیٰ نواز کھوکھر2018 میں سندھ سے سینیٹر منتخب ہوئے تھے لیکن بعض وجوہات کی بناء پر پارٹی نے ان سے استعفا طلب کیا تھا، جس پر وہ 10 نومبر2022 کو اپنی نشست سے مستعفی ہوگئے تھے۔

پنجاب حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنے گی، وزیر داخلہ پنجاب

Shakira could face 8 years in jail

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تباہی کے دہانے پر ہے، عالمی ادارہ صحت

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.